مجھے جو کچھ بھی کہنا تھا ابھی میں کہہ نہیں پایا میری تحریر کی زَد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا ابھی وہ کرب لکھنا ہے جسے محسوس کرتا ہوں ابھی وہ خواب لکھنے ہیں جو ان آنکھوں میں پلتے ہیں مجھے اُن کو بھی لکھنا ہے ، جہنیں میں ڈھونڈ نا پایا ابھی وہ لوگ لکھنے ہیں جو کھو کر ہاتھ ملتے ہیں ابھی وہ اشک لکھنے ہیں کبھی جو کہہ نہیں پایا میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا ابھی تو موسموں کی شوخیاں تحریر کرنی ہیں اٹھانے ہیں ابھی دریا سے مجھ کو پیاس […]
کس لیے اب اداس بیٹھی ہو
جب وہ اِک شخص دسترس میں تھا اس سے ملنا تمہارے بس میں تھا اس کی آنکھیں تمہاری آنکھیں تھیں اس کی باتیں تمہاری باتیں تھیں اس کا چہرہ تمہارا چہرہ تھا اس کے دل پر تمہارا پہرہ تھا اس کی ہر سانس میں بسی تھیں تم اس کے ہر لفظ میں کِھلی تھیں تم اس کے سپنوں میں بھی رچی تھیں تم اس کی نیندوں میں جاگتی تھیں تم وہ جو کہتا تھا بے قراری ہے میری ساری وفا تمہاری ہے صرف تم سے مجھے محبت ہے صرف تم سے میری حقیقت ہے کتنی باتیں میں کہہ نہیں سکتا […]
Jugnu koi sitaaron ki mehfil main kho gaya…
Jugnu koi sitaaron ki mehfil main kho gaya… Itna na kar malaal jo hona tha wo ho gaya… Parward-e-gaar to janta hai diloon ka haal… Main ji na paoon ga jo usey kuch bhi ho gaya… Ab us ko deakh kar nhi dharkay ga mera dil… Kahan ka mujh ko yeh bhi sabaq yaad ho gaya… Baadal utha tha sab ko rulaanay kay waastay… Aanchal bhi kho gaya kahin daaman bhi khoo gaya… Aik larki aik larkay kay kandhay par so gayi… Main ujli dundi yaadon k kahray main kho gaya…
