ابھی میں کہہ نہیں پایا

مجھے جو کچھ بھی کہنا تھا ابھی میں کہہ نہیں پایا
میری تحریر کی زَد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
ابھی وہ کرب لکھنا ہے جسے محسوس کرتا ہوں
ابھی وہ خواب لکھنے ہیں جو ان آنکھوں میں پلتے ہیں
مجھے اُن کو بھی لکھنا ہے ، جہنیں میں ڈھونڈ نا پایا
ابھی وہ لوگ لکھنے ہیں جو کھو کر ہاتھ ملتے ہیں
ابھی وہ اشک لکھنے ہیں کبھی جو کہہ نہیں پایا
میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
ابھی تو موسموں کی شوخیاں تحریر کرنی ہیں
اٹھانے ہیں ابھی دریا سے مجھ کو پیاس کے پہرے
ابھی تو خشک پیڑوں پہ مجھے رم جھم بھی لکھنی ہے
کہیں پہ دھوپ لکھنی ہے کہیں پہ تیرگی چھایا
میری تحریر کی ز َد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
ابھی تو وہ سفر لکھنا ہے جو درپیش ہے مجھ کو
ابھی تو تم کو اپنی پیاس کا صحرا دکھانا ہے
ابھی تو ہجر کی لکھنی ہیں ساری ماتمی راتیں
ابھی تو ایسے لمحے بھی تمہیں آ کر سنانا ہے
کہ جن سے اشک آنکھوں میں ، مگر اس دل کو بہلایا
میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا

میرے پاس تم ھو

کہاں جوڑ پائیں گے ہم دھڑکنوں کو
کہ دل کی طرح ہم بھی ٹوٹے ہوئے ہیں
یہ مانا کہ تم سے خفا ہیں ذرا ہم
مگر زندگی سے بھی روٹھے ہوئے ہیں
یہی ہم نے سیکھا ہے جرمِ وفا سے
بچھڑ جائیے گا تو مر جائیے گا۔۔۔۔
میرے پاس تم ھو ۔۔۔

کس لیے اب اداس بیٹھی ہو

جب وہ اِک شخص دسترس میں تھا
اس سے ملنا تمہارے بس میں تھا
اس کی آنکھیں تمہاری آنکھیں تھیں
اس کی باتیں تمہاری باتیں تھیں
اس کا چہرہ تمہارا چہرہ تھا
اس کے دل پر تمہارا پہرہ تھا
اس کی ہر سانس میں بسی تھیں تم
اس کے ہر لفظ میں کِھلی تھیں تم
اس کے سپنوں میں بھی رچی تھیں تم
اس کی نیندوں میں جاگتی تھیں تم
وہ جو کہتا تھا بے قراری ہے
میری ساری وفا تمہاری ہے
صرف تم سے مجھے محبت ہے
صرف تم سے میری حقیقت ہے
کتنی باتیں میں کہہ نہیں سکتا
دور تم سے میں رہ نہیں سکتا
تب تم اس کے ہر ایک جملے کو
تب تم اس کے ہر ایک جذبے کو
اِک ہنسی میں اڑایا کرتی تھیں
سن کے تم بھول جایا کرتیں تھیں
اس کی آنکھوں کو دیکھتیں جب وہ
بے نیازی کے درد سہتا تھا
بھول جانا تمہاری عادت تھی
پھر بھی کتنا ملول رہتا تھا
اپنی تنہائی کے گلے لگ کر
سارے آنسو وہ رو گیا اک دن
ایک پتھر سے دل لگی کر کے
خود بھی پتھر کا ہو گیا اک دن
اب وہ تم سے تو کچھ نہیں کہتا
بے نیازی کے دکھ نہیں سہتا
اس کی آنکھیں اب اس کی آنکھیں ہیں
اس کی باتیں اب اس کی باتیں ہیں
بھول جانا تمہاری عادت ہے
اس کی باتوں کو بھول جاؤ نا
اب وہ اِک شخص دسترس میں نہیں
اس سے ملنا تمہارے بس میں نہیں
کس لیے اب اداس بیٹھی ہو؟؟؟

Jugnu koi sitaaron ki mehfil main kho gaya…

Jugnu koi sitaaron ki mehfil main kho gaya…

Itna na kar malaal jo hona tha wo ho gaya…

Parward-e-gaar to janta hai diloon ka haal…

Main ji na paoon ga jo usey kuch bhi ho gaya…

Ab us ko deakh kar nhi dharkay ga mera dil…

Kahan ka mujh ko yeh bhi sabaq yaad ho gaya…

Baadal utha tha sab ko rulaanay kay waastay…

Aanchal bhi kho gaya kahin daaman bhi khoo gaya…

Aik larki aik larkay kay kandhay par so gayi…

Main ujli dundi yaadon k kahray main kho gaya…