ابھی میں کہہ نہیں پایا

مجھے جو کچھ بھی کہنا تھا ابھی میں کہہ نہیں پایا
میری تحریر کی زَد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
ابھی وہ کرب لکھنا ہے جسے محسوس کرتا ہوں
ابھی وہ خواب لکھنے ہیں جو ان آنکھوں میں پلتے ہیں
مجھے اُن کو بھی لکھنا ہے ، جہنیں میں ڈھونڈ نا پایا
ابھی وہ لوگ لکھنے ہیں جو کھو کر ہاتھ ملتے ہیں
ابھی وہ اشک لکھنے ہیں کبھی جو کہہ نہیں پایا
میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
ابھی تو موسموں کی شوخیاں تحریر کرنی ہیں
اٹھانے ہیں ابھی دریا سے مجھ کو پیاس کے پہرے
ابھی تو خشک پیڑوں پہ مجھے رم جھم بھی لکھنی ہے
کہیں پہ دھوپ لکھنی ہے کہیں پہ تیرگی چھایا
میری تحریر کی ز َد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
ابھی تو وہ سفر لکھنا ہے جو درپیش ہے مجھ کو
ابھی تو تم کو اپنی پیاس کا صحرا دکھانا ہے
ابھی تو ہجر کی لکھنی ہیں ساری ماتمی راتیں
ابھی تو ایسے لمحے بھی تمہیں آ کر سنانا ہے
کہ جن سے اشک آنکھوں میں ، مگر اس دل کو بہلایا
میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا

وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے
جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے

جِنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہمسفر
مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے

مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے
میری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے

یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گُلاب سارے ہیں کاغذی
گُلِ آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے

جِنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریکِ راہِ سفر ہُوئے
جو مِری طلب مِری آس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے

مِری دھڑکنوں کے قریب تھے مِری چاہ تھے مِرا خواب تھے
جو روز و شب مِرے پاس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد
نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد

یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک
کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد

ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل
یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد

قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن
ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد

مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے
وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد

خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں
وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد

مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں
انہیں کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا
بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا

تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا

اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ
میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا

ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض
سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا

لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو
تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا

تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے
تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا

Dhalne Lgi Hai Raat Wasi

Hijr Ka Tara Doob Chla Hai Dhalne Lgi Hai Raat Wasi
Qatra Qatra Bars Rahi Hai Ashko Ki Barsat Wasi

Tere Bad Ye Dunya Wale Muj Ko Pagal Kar Dain Ge
Khushbo Ke Dais Mai Muj Le Chal Apne Sath Wasi

Yun Hi Chup Ki Muhr Lga Kar Kab Tak Gum Sum Betho Gay?
Khamoshi Se Dam Guta Hai Chero Koi Baat wasi

Choro Wasi Ab Us Ki Yaadain Tuj Ko Pagal Kar Dain Gi
Tu Qatra Hai Wo Darya Hai Dekh Apni Aoqat Wasi

کس لیے اب اداس بیٹھی ہو

جب وہ اِک شخص دسترس میں تھا
اس سے ملنا تمہارے بس میں تھا
اس کی آنکھیں تمہاری آنکھیں تھیں
اس کی باتیں تمہاری باتیں تھیں
اس کا چہرہ تمہارا چہرہ تھا
اس کے دل پر تمہارا پہرہ تھا
اس کی ہر سانس میں بسی تھیں تم
اس کے ہر لفظ میں کِھلی تھیں تم
اس کے سپنوں میں بھی رچی تھیں تم
اس کی نیندوں میں جاگتی تھیں تم
وہ جو کہتا تھا بے قراری ہے
میری ساری وفا تمہاری ہے
صرف تم سے مجھے محبت ہے
صرف تم سے میری حقیقت ہے
کتنی باتیں میں کہہ نہیں سکتا
دور تم سے میں رہ نہیں سکتا
تب تم اس کے ہر ایک جملے کو
تب تم اس کے ہر ایک جذبے کو
اِک ہنسی میں اڑایا کرتی تھیں
سن کے تم بھول جایا کرتیں تھیں
اس کی آنکھوں کو دیکھتیں جب وہ
بے نیازی کے درد سہتا تھا
بھول جانا تمہاری عادت تھی
پھر بھی کتنا ملول رہتا تھا
اپنی تنہائی کے گلے لگ کر
سارے آنسو وہ رو گیا اک دن
ایک پتھر سے دل لگی کر کے
خود بھی پتھر کا ہو گیا اک دن
اب وہ تم سے تو کچھ نہیں کہتا
بے نیازی کے دکھ نہیں سہتا
اس کی آنکھیں اب اس کی آنکھیں ہیں
اس کی باتیں اب اس کی باتیں ہیں
بھول جانا تمہاری عادت ہے
اس کی باتوں کو بھول جاؤ نا
اب وہ اِک شخص دسترس میں نہیں
اس سے ملنا تمہارے بس میں نہیں
کس لیے اب اداس بیٹھی ہو؟؟؟

عشق جب عــین ذات ہو جائے

عشق جب عــین ذات ہو جائے
خــــــالق معـــــــجزات ہو جائے
ایک دیوی کی آنکھ ایسے لگی
جیسے مــندر میں رات ہو جائے
کتنے بیمار عـــشق بچ جـــائیں
حـــسن پر گــــر زکـواۃ ہو جائے
آنکھ پڑھنا جسے بھی آجـــائے
مــــــــاہرنفـسیات ہوجـــــــــائے
عمر بھر چپ رہو ، تو ممکن ہے
کـــن کــــہو، کائنات ہو جــــائے
عکس لیلٰی سے قیس بات توکر
عــــین ممــکن ہے بات ہو جــائے

Aatish-e-ishq sey senay ko jalaya kyun tha…

Aatish-e-ishq sey senay ko jalaya kyun tha…

Tum nay ye ro0g jawani main lagaya kyun tha…

Kyun liay phirtay ho ab dunia main purnam aankhain…

Pyar acha tha magar dil main basaya kyun tha…

Jab bichar jana hi taqdeer main likh rakha tha…

Merey mola mujhay phir usey milaya kyun tha…