مجھے جو کچھ بھی کہنا تھا ابھی میں کہہ نہیں پایا
میری تحریر کی زَد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
ابھی وہ کرب لکھنا ہے جسے محسوس کرتا ہوں
ابھی وہ خواب لکھنے ہیں جو ان آنکھوں میں پلتے ہیں
مجھے اُن کو بھی لکھنا ہے ، جہنیں میں ڈھونڈ نا پایا
ابھی وہ لوگ لکھنے ہیں جو کھو کر ہاتھ ملتے ہیں
ابھی وہ اشک لکھنے ہیں کبھی جو کہہ نہیں پایا
میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
ابھی تو موسموں کی شوخیاں تحریر کرنی ہیں
اٹھانے ہیں ابھی دریا سے مجھ کو پیاس کے پہرے
ابھی تو خشک پیڑوں پہ مجھے رم جھم بھی لکھنی ہے
کہیں پہ دھوپ لکھنی ہے کہیں پہ تیرگی چھایا
میری تحریر کی ز َد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
ابھی تو وہ سفر لکھنا ہے جو درپیش ہے مجھ کو
ابھی تو تم کو اپنی پیاس کا صحرا دکھانا ہے
ابھی تو ہجر کی لکھنی ہیں ساری ماتمی راتیں
ابھی تو ایسے لمحے بھی تمہیں آ کر سنانا ہے
کہ جن سے اشک آنکھوں میں ، مگر اس دل کو بہلایا
میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا

Leave a Reply