میں تعلق توڑدیتا ہوں

تعلق توڑتا ہوں تو مکمل توڑ دیتا ہوں جسے میں چھوڑ دیتا ہوں مکمل چھوڑ دیتا ہوں کناروں سے اگر میری خُودی کو ٹھیس پہنچے تو بھنور میں ڈوب جاتا ہوں، وہ ساحل چھوڑ دیتا ہوں مجھے مانگے ہوئے سائے ہمیشہ دُھوپ لگتے ہیں میں سورج کے گلے پڑتا ہوں، بادل چھوڑ دیتا ہوں تعلق یوں نہیں رکھتا، کبھی رکھا کبھی چھوڑا جسے میں چھوڑ دوں پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں محبت ہو کہ نفرت ہو بھرا رہتا ہوں شدّت سے جدھر سے آئے یہ دریا اُدھر کو موڑ دیتا ہوں یقیں رکھتا نہیں ہوں میں کسی کچے تعلق پر […]

ابھی میں کہہ نہیں پایا

مجھے جو کچھ بھی کہنا تھا ابھی میں کہہ نہیں پایا میری تحریر کی زَد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا ابھی وہ کرب لکھنا ہے جسے محسوس کرتا ہوں ابھی وہ خواب لکھنے ہیں جو ان آنکھوں میں پلتے ہیں مجھے اُن کو بھی لکھنا ہے ، جہنیں میں ڈھونڈ نا پایا ابھی وہ لوگ لکھنے ہیں جو کھو کر ہاتھ ملتے ہیں ابھی وہ اشک لکھنے ہیں کبھی جو کہہ نہیں پایا میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا ابھی تو موسموں کی شوخیاں تحریر کرنی ہیں اٹھانے ہیں ابھی دریا سے مجھ کو پیاس […]

وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے

جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے جِنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہمسفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے میری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گُلاب سارے ہیں کاغذی گُلِ آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے جِنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریکِ […]

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد نہیں ہے داد کا طالب یہ بندۂ آزاد یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاک کرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد ٹھہر سکا نہ ہوائے چمن میں خیمۂ گل یہی ہے فصل بہاری یہی ہے باد مراد قصوروار غریب الدیار ہوں لیکن ترا خرابہ فرشتے نہ کر سکے آباد مری جفا طلبی کو دعائیں دیتا ہے وہ دشت سادہ وہ تیرا جہان بے بنیاد خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں وہ گلستاں کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیاد مقام شوق ترے قدسیوں کے بس کا نہیں انہیں […]

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اس سے کیا بجتے رہیں ہواؤں سے در تم کو اس سے کیا تم موج موج مثل صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پر تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھامو انہیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر تم کو اس سے کیا ابر گریز پا کو برسنے سے کیا غرض سیپی میں بن نہ پائے گہر تم کو اس سے کیا لے جائیں مجھ کو مال غنیمت کے ساتھ عدو تم نے تو ڈال دی ہے سپر تم کو اس سے کیا تم نے تو تھک […]

Dhalne Lgi Hai Raat Wasi

Hijr Ka Tara Doob Chla Hai Dhalne Lgi Hai Raat Wasi Qatra Qatra Bars Rahi Hai Ashko Ki Barsat Wasi Tere Bad Ye Dunya Wale Muj Ko Pagal Kar Dain Ge Khushbo Ke Dais Mai Muj Le Chal Apne Sath Wasi Yun Hi Chup Ki Muhr Lga Kar Kab Tak Gum Sum Betho Gay? Khamoshi Se Dam Guta Hai Chero Koi Baat wasi Choro Wasi Ab Us Ki Yaadain Tuj Ko Pagal Kar Dain Gi Tu Qatra Hai Wo Darya Hai Dekh Apni Aoqat Wasi

کس لیے اب اداس بیٹھی ہو

جب وہ اِک شخص دسترس میں تھا اس سے ملنا تمہارے بس میں تھا اس کی آنکھیں تمہاری آنکھیں تھیں اس کی باتیں تمہاری باتیں تھیں اس کا چہرہ تمہارا چہرہ تھا اس کے دل پر تمہارا پہرہ تھا اس کی ہر سانس میں بسی تھیں تم اس کے ہر لفظ میں کِھلی تھیں تم اس کے سپنوں میں بھی رچی تھیں تم اس کی نیندوں میں جاگتی تھیں تم وہ جو کہتا تھا بے قراری ہے میری ساری وفا تمہاری ہے صرف تم سے مجھے محبت ہے صرف تم سے میری حقیقت ہے کتنی باتیں میں کہہ نہیں سکتا […]

عشق جب عــین ذات ہو جائے

عشق جب عــین ذات ہو جائے خــــــالق معـــــــجزات ہو جائے ایک دیوی کی آنکھ ایسے لگی جیسے مــندر میں رات ہو جائے کتنے بیمار عـــشق بچ جـــائیں حـــسن پر گــــر زکـواۃ ہو جائے آنکھ پڑھنا جسے بھی آجـــائے مــــــــاہرنفـسیات ہوجـــــــــائے عمر بھر چپ رہو ، تو ممکن ہے کـــن کــــہو، کائنات ہو جــــائے عکس لیلٰی سے قیس بات توکر عــــین ممــکن ہے بات ہو جــائے