مجھے جو کچھ بھی کہنا تھا ابھی میں کہہ نہیں پایا میری تحریر کی زَد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا ابھی وہ کرب لکھنا ہے جسے محسوس کرتا ہوں ابھی وہ خواب لکھنے ہیں جو ان آنکھوں میں پلتے ہیں مجھے اُن کو بھی لکھنا ہے ، جہنیں میں ڈھونڈ نا پایا ابھی وہ لوگ لکھنے ہیں جو کھو کر ہاتھ ملتے ہیں ابھی وہ اشک لکھنے ہیں کبھی جو کہہ نہیں پایا میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا ابھی تو موسموں کی شوخیاں تحریر کرنی ہیں اٹھانے ہیں ابھی دریا سے مجھ کو پیاس […]
وہی لوگ مجھ سے بچھڑ گئے
جو خیال تھے نہ قیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے جو محبتوں کی اساس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے جِنہیں مانتا ہی نہیں یہ دل وہی لوگ میرے ہیں ہمسفر مجھے ہر طرح سے جو راس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے مجھے لمحہ بھر کی رفاقتوں کے سراب اور ستائیں گے میری عمر بھر کی جو پیاس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے یہ خیال سارے ہیں عارضی یہ گُلاب سارے ہیں کاغذی گُلِ آرزو کی جو باس تھے وہی لوگ مجھ سے بِچھڑ گئے جِنہیں کر سکا نہ قبول میں وہ شریکِ […]
